power-generation

ابراہیم فائیبر ز لمیٹڈ۔ پاور جنریشن پلانٹس

ابراہیم فائیبرزلمیٹڈ کے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس دو پیداواری یونٹس پر مشتمل ہے ۔ بجلی پیدا کرنے والا یونٹ نمبر1 اور نمبر2 ‘ بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 73.3 میگاواٹ ہے۔ ان پلانٹس کا واحد مقصد کمپنی کے صنعتی پیدواری یونٹس کو مستحکم اور بغیر کسی تعطل کے بجلی کی ترسیل ہے۔

بجلی کے پیداواریونٹ۔ 1

یونٹ۔ 1 نے جنوری 1994 ء میں 31.8 میگاواٹ پیداواری گنجائش سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ یہ پلانٹ فرنس آئل سے چلنے والے 6 انجن سیٹ پر مشتمل ہے۔ ہر سیٹ کی گنجائش 5.3 میگاواٹ ہے۔ ان پیداواری سیٹ کو جاپانی کمپنی Nigata Engineering نے مہیا کیا ہے۔1996 ء کے دوران ‘ پولیسٹر پلانٹ کی تنصیب کے بعد ‘ دو مزید انجن کا اضافہ کر دیا گیا تاکہ اضافی بجلی کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔ آغاز میں پلانٹ کے تمام انجن ہیوی ایندھن (تیل ) سے چلاۓ جاتے تھے. لیکن بعد میں کمپنی نے ان انجنوں کو 60 فی صد ہیوی ایندھن (تیل ) پر اور چالیس فی صد قدرتی گیس پر منتقل کر دیا تاکہ ہر لمحہ تبدیل ہوتی مارکیٹ میں مسابقت کے عمل میں کمپنی باوقار حیثیت سے حصہ لے سکے۔

حالیہ پولیسٹر پلانٹ کی توسیع کے بعد پیداواری عمل 596 ٹن یومیہ سے بڑھ کر 1116 ٹن یومیہ پولیسٹر سٹیپل فائیبر تک پہنچ چکا ہے۔ بجلی کی طلب میں اندازاً 10.4 میگاواٹ اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے پانچ نئے فرنس آئل سے چلنے والے انجن نصب کئے گئے ہیں۔ ان انجنز کی پیداواری گنجائش 5.3 میگاواٹ ہے اور ان انجینز کو مشہور جاپانی Nigata Engineering کمپنی نے مہیا کیا ہے۔ ان انجینز کی کل پیداواری صلاحیت 26.5 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ 11 ٹن فی گھنٹہ بھاپ پیدا کرنے کی پیداواری صلاحیت بھی شروع ہو چکی ہےصرف کم کر دیا ہے بلکہ ایندھن کی قیمت میں بچت کا باعث بھی بن رہا ہے جس کو بھاپ کی پیداوارمیں خرچ کیا جارہا ہے۔

بجلی کے پیداواریونٹ۔ 2

2007 ء میں کمپنی نے Switzerland کی ایک کمپنی (Turbomach) کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کئے جس کے تحت کمپنی (Turbomach) گیس سے بجلی پیدا کرنے کی انجینئرنگ رسد اور دیکھ بھال کرنے میں مدد کرے گی۔ اس پلانٹ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 15 میگاواٹ ہے اس کے علاوہ 25 ٹن فی گھنٹہ بھاپ پیدا کرنے کی صلاحیت ایک ضمنی پیداوار ہے۔

اس پلانٹ نے 2009 ء کے پہلے نصف حصے میں پیداواری عمل کا آغاز کردیا ہے ۔ اس پلانٹ کی تنصیب نے بجلی کی پیداواری لاگت کو نہ صرف کم کر دیا ہے بلکہ ایندھن کی قیمت میں بچت کا باعث بھی بن رہا ہے جس کو بھاپ کی پیداوارمیں خرچ کیا جارہا ہے۔